GULAM RABBANI FIDA

رہ گئی رسم اذاں
روح بلالی نہ رہی
غلام ربانی فداؔ 
مدیر اعلیٰ جہان نعت ہیرور
9741277047

آج ایشیا ہو یا یورپ،افریقہ ہو یا امریکہ دنیائے معلومہ کے ہر خطے اور ہر گوشے میں اُمتِ مسلمہ ذلت کے جس ماحول سے گذر رہی ہے شاید تاریخ کے کسی دَور میں رسوائی و بے اعتنائی کی اس بد ترین صورت حال کا سابقہ پڑا ہو۔ جب ہم اُمتِ مسلمہ کی بگڑتی اور مسخ ہوتی ہوئی اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہیں اور بنظرِ غائر مطالعہ کرتے ہیں تو دو ہی عوامل اس میں زیادہ کا ر فرما اور مؤثر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تو ’’غیروں کی ستم کاریاں‘‘ ہیں اور دوسرے ’’اپنوں کی بد اعمالیاں‘‘ جس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ وہی قوم جو خاکدانِ گیتی کی زلفِ برہم کو سنوارنے اور کشتیِ عالم کی ناخدائی کا فریضہ انجام دینے کے لیے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی تھی اس کا وجودِ مسعود ہی خطرے کی زد پر ہے۔ بادِ سموم کا ہر جھونکا ہماری کشت نور ستہ کو پیغامِ خزاں دے رہا ہے۔ طغیان و سرکشی کی ہر لہر سونامی جیسے نئے طوفان کا الارم بجا رہی ہے۔ آسمان سے گرنے والی بجلیاں مسلمانوں کا نشیمن تلاش کر رہی ہیں۔ کفر کا سارا زور ’’آشیانۂ مومن ‘‘کو پیوند زمیں کرنے پر خرچ ہو رہا ہے۔عراق جیسے آزاد ، خود مختار اور امن و شانتی کے گہوارے پر گناہِ بے گناہی کا الزام لگا کر زیر و زبر کیا جا رہا ہے۔ مسلم ممالک دشمنانِ اسلام کی افواج کی آماجگاہ اور ان کے نت نئے ہتھیاروں اور اسلحوں کی بہترین تجربہ گاہ بنے ہوئے ہیں ۔جہاں دیکھو قوم مسلم تباہ وبرباد ہو رہی ہے ، عصمتیں لُٹ رہی ہیں، پاک دامنی تا ر تار ہو رہی ہے، خالد و طارق کے جانشینوں کو تفریحِ طبع کے طورپر گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہے، حیوانیت جاگ گئی ہے، تا تاریت بیدار ہو گئی ہے۔ 
ظلم و بر بریت کا ایک اٹوٹ سلسلہ ہے، یہی سلسلہ جب افغانستان سے شروع ہوتا ہے تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے اور اسے مقہور و مظلوم کر کے کاسۂ گدائی اُٹھانے پر مضطر و مجبور کر دیا جاتا ہے، وہ کونسی ذلت و رسوائی ہے جو با غیرت اور با حمیت و با وقار پٹھانوں پر نہیں ڈالی گئی، اپنے ہی گھروں سے بے گھر کر دئیے گئے، اپنی زمینوں سے ملک بدر کر دئیے گئے، خود داری ان سے چھینی گئی، حق خود اختیاری ان سے چھیناگیا۔ اب ظلم و جبر کا وہاں پر راج ہے اور پورا ملک ستم گر کے خونی پنجے میں گرفتار ہے۔ ہمارا قبلۂ اوّل دشمنوں کے ناپاک عزائم میں محصور ہے، پورا فلسطین ماتم گاہ بناہوا ہے، امریکہ و برطانیہ کی نا جائز اولاد اپنی صہیو نیت کی توسیع کے لیے فلسطینیوں کو لقمۂ تر بنا رہی ہے۔ بچہ ،بوڑھا ، مرد، عورت کسی کی جان محفوظ نہیں۔ عصمتِ نسواں محفوظ نہیں، عصائے پیری صحیح و سلامت نہیں۔ ظلم کاایک سیلِ رواں ہے جو بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ جبر کاکوہِ آتش فشاں ہے جس کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ 
آخر ظلم کا پنجہ مروڑنے والے کہاں چلے گئے؟ بربریت کا سورج غروب کرنے والے کہاں سو گئے؟ وہ ہمارے ہی تو اسلاف تھے جن کا مقصدِ حیات مظلوموں کی داد رسی اور ظالموں کی سرکوبی ہوا کرتا تھا۔ ظلم ہند میں ہو یا سندھ میں، افغانستان میں ہو یا عربستان میں سارے جہاں کا مسلمان بے چین و بے قرار ہو جاتا تھا۔ قوم کی ایک بیٹی کی عزت و نا موس کی حفاظت کے لیے ہزاروں سرفروشانِ اسلام اپنے سروں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے ہمہ قت مستعد و تیار رہا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم کم ہونے کے با وجود سیسہ پلائی ہوئی مستحکم دیوار تھے اور دشمن ہم سے ہمیشہ خوف زدہ رہتے تھے۔
ظلم کرنا ہمارا پیشہ نہیں تھا،ظلم سہنا ہمارا و طیرہ نہیں تھا، اور ظالم و جابر کے آگے جھک جانا ہمارا شیوہ نہیں تھا۔ ہم ایسے پکّے اور دل کے سچے مسلمان تھے کہ برائیاں ہم سے دور بھاگتی تھیں، ظلمتیں کافور ہوتی تھیں، طغیانیت کا قلع قمع ہوتا تھا، شیطنیت ناپید ہوتی تھی، ابلیسیت منہ چھپاتی تھی۔ گویا ہمارا وجود زمانے کے لیے خیرِ مجسم تھا اور ہماری ہستی قحط زدہ انسانیت کے لیے رحمتِ حق کی موسلا دھار بارش تھی۔ 
ہم ظلم کا زور توڑا کرتے تھے، برائیوں کا منہ موڑا کرتے تھے، زمانے کے فرعون و نمرود، ہامان و شدّاد ہم سے تھرّایا کرتے تھے، مظلومانِ زمانہ ہمارے دامنِ امن و عافیت میں پناہ ڈھونڈا کرتے تھے، ہمارے بے داغ پیرہن کے تقدس کی قسمیں کھائی جاتی تھیں۔ حلم ہمارا اوڑھنا، صبر ہمارا بچھونا، تقدس ہمارا کمال، اور تدبر و تفکر ہمارا جمال تھا۔ خوبیاں ہم سے پہچانی جاتی تھیں اور ہم خوبیوں سے پہچانے جاتے تھے۔ اچھائیاں ہم سے متعارف ہوتی تھیں اور ہمار اتعارف اچھا ئیوں سے کرایا جاتا تھا، ہمارا کردار نشانِ منزل، ہمارا کیریکٹر بہترین رہنما ہوتا تھا۔ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم کی حقیقی تفسیر ہم تھے ، ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم کی زند�ۂ جاوید تعبیر ہم تھے۔ 
مسلحِ کائنات بھی ہم، مبلغِ کائنات بھی ہم، رہبرِ کائنات بھی ہم، سرورِ کائنات بھی ہم، مگر ہم کیا بدلے ہماری تقدیر بدل گئی، عمل بدلا تو ہماری تشریح بدل گئی، اقوامِ عالم کے ہیرو ہم تھے۔ اب ہمیں زیرو سمجھا جانے لگا ساری برائیوں کی جڑیں ہم میں تلاش کی جانے لگیں ’’ شیطان بزرگ‘‘ کی طرف سے ’’بدی کا محور‘‘کہا جانے لگا۔ دہشت گردی کے جرثومے آبِ تطہیر میں پلنے لگے ۔ 
مقام عبرت تویہ ہے کہ جس زمین سے نبیِ رحمت ﷺ نے ظلم کو روکنے اور مظلوموں کی مدد کرنے کا اعلانِ عام فرمایا تھا خود وہیں کے سگانِ حرم اور بزعم خویش پاسبانِ حرم، حرم کی پاسبانی کا بھرم توڑ رہے ہیں اور یہود و نصاریٰ جیسی ظالم و جابر، فاسق و فاجر قوم سے اپنا رشتۂ اخوت و محبت جوڑ رہے ہیں ۔ عرب کی پردہ دار اور عزت مآب خواتین ان کی نگاہوں میں نہیں بھاتیں۔ یورپ و امریکہ کی حیا سوختہ اور گوہر عصمت فروختہ دوشیزاؤں سے محلوں کو سجایا اور سنوارا جا رہا ہے۔ فلسطین کے مجاہدین ٹینکوں اور توپوں کا جواب اینٹ اور پتھر سے دے رہے ہیں۔ ان کے پاس جدید قسم کے آلاتِ حرب و ضرب خریدنے کے لیے پیسے نہیں۔مگر ایک سال کے اندر سعودیہ عربیہ کے باشندے ایک ارب ریال کے منرل واٹر پی رہے ہیں۔ اب ہمارے اندر نہ احساس باقی رہا اور نہ غیرت و حمیت باقی رہی۔ بقول اقبالؔ : 
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہود
دورِ حاضرمیں مسلم مسلم سے بیگانہ ہے، اتحاد و اتفاق عنقا ہے، اخلاقِ نبوی نسیاً منسیاً ہے۔ یہی وجہ ہے یہود و نصاریٰ ہمیں طعنے دے رہے ہیں، برطانیہ کا وزیر اعظم ٹونی بلیر مسلمانوں کو جینے کا سلیقہ سکھا رہا ہے۔ صدر امریکہ مسٹر اوبامہ ہماری ہی غصب کردہ زمین کی واپسی کا وعدہ دلاکر ہم پر احسان جتلا رہا ہے۔ گویاہم اس وقت حوادثات و مشکلات میں چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں اورہمارے لیے:
یہ گھڑی محشر کی ہے اور ہم عرصۂ محشر میں ہیں 
ایسے میں ہمارے لیے نجات کی بس ایک ہی راہ ہے کہ اپنے اوراقِ ماضیہ کی ورق گردانی کریں، اسلاف کرام کی تاریخ کو پڑھیں اور ان کے نقوشِ پا کو اپنے لیے حر زِجاں بنالیں ۔ورنہ
بقول شمس گھوسوی : 
اپنی تاریخ کو جو قوم بھلا دیتی ہے
صفحۂ دہر سے وہ خود کو مٹا دیتی ہے 

*** 

Make a free website with Yola